Islamabad: 21st April 2025 –Speaker National Assembly Sardar Ayaz Sadiq has reaffirmed Pakistan's unwavering commitment to deepening bilateral ties with the Kingdom of Saudi Arabia. He stated that Pakistan and Saudi Arabia enjoy brotherly relations rooted in shared faith, history, and mutual respect.The Speaker underscored the importance of enhancing parliamentary cooperation through frequent exchanges between the legislatures of both countries. He emphasized that such interactions are essential for fostering mutual understanding and institutional collaboration. He expressed these views during his meeting with the Chairman of the Shura Council, Dr. Abdullah bin Muhammed bin Ibrahim Al-Sheikh, in Riyadh today.
Speaker Sardar Ayaz Sadiq also highlighted the vast investment opportunities available in Pakistan, particularly in the sectors of energy, infrastructure, agriculture, and information technology. He extended a cordial invitation to Saudi investors to explore and capitalize on these prospects, assuring them of full support and facilitation. He expressed appreciation for the consistent and valuable support extended by Saudi Arabia to Pakistan at regional and international forums, especially during times of need.He also strongly condemned the killings of innocent children and women in Palestine and Kashmir, stating that unity among Muslim countries is crucial for addressing such challenges and effectively combating extremism and injustice.

Later, during his meeting with the Grand Mufti of Saudi Arabia, Sheikh Abdulaziz bin Abdullah Al Sheikh, Speaker Sardar Ayaz Sadiq stressed the vital role of religious leadership in promoting peace and countering extremism. He urged the Grand Mufti to consider issuing a unified and categorical fatwa against terrorism, stating that terrorists are killing innocent people as such practices are not allowed in any religion.The Speaker noted that religious scholars bear a significant responsibility in guiding youth, shaping narratives of moderation, and reinforcing the true essence of Islam, which advocates peace, tolerance, and humanity. He also expressed Pakistan’s strong desire for continued cooperation between religious institutions in both countries to promote interfaith harmony and counter radicalization.
Furthermore, Speaker Sardar Ayaz Sadiq met with Prince Faisal bin Bandar bin Abdulaziz Al Saud, the Governor of Riyadh. The two dignitaries discussed a broad range of issues aimed at further strengthening bilateral cooperation. Emphasis was placed on deepening economic and cultural ties, boosting trade volume, and exploring collaborative opportunities in areas of mutual interest.Speaker Sadiq reaffirmed Pakistan's keen interest in working closely with Saudi Arabia to build long-term, sustainable partnerships. He welcomed the Kingdom’s Vision 2030 reforms and expressed Pakistan's support for initiatives aimed at promoting regional connectivity and inclusive economic development.
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کا دورہ سعودی عرب/سعودی مجلس شوریٰ کے چیئرمین اور سعودی مفتی اعظم سے اہم ملاقاتیں۔
سعودی عرب/اسلام آباد، 21 اپریل، 2025: سعودی عرب سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے اپنے دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر عبد اللہ بن محمد بن ابراہیم الشیخ سے ملاقات کی۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، پارلیمانی تعاون، اور عالم اسلام کو درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔سعودی شوریٰ کونسل کے چیئرمین نے پاکستانی پارلیمانی وفد کا پرتپاک استقبال کیا۔اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے پرتپاک خیر مقدم کرنے اُن کا شکریہ کیا۔
اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین برادرانہ تعلقات مثالی، گہرے اور وقت کی آزمائش پر پورا اترنے والے ہیں۔ انہوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبد العزیز اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
سپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے عوام ایک دوسرے سے گہری وابستگی رکھتے ہیں۔پاکستان کی عوام اور حکومت سعودی عرب کے ساتھ دیرینہ تعلقات پر فخر محسوس کرتے ہیں، اور وقت گزرنے کے ساتھ ان تعلقات میں مزید مضبوطی آئی ہے۔سعودی عرب نے ہمیشہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔انہوں نے کہا انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب کی پارلیمان کے مابین تعلقات بھی نہایت خوشگوار ہیں، اور اس نوعیت کے وفود کے تبادلے ان روابط کو مزید وسعت دیں گے۔
ملاقات کے دوران خطے کی سیکیورٹی صورتحال، مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر غزہ کی تازہ ترین صورتحال پر بھی تفصیلی بات چیت کی گئی۔ سپیکر سردار ایاز صادق نے غزہ کے مظلوم عوام کے حق میں پاکستان کی قومی اسمبلی کی متفقہ قرارداد سے بھی سعودی قیادت کو آگاہ کیا اور کہا کہ پاکستان کی پارلیمنٹ، عوام اور حکومت فلسطینی عوام کے ساتھ متفقہ اور مضبوط موقف رکھتے ہیں۔اسپیکر قومی اسمبلی نے ریاض اور اسلام آباد کو "سسٹر سٹیز" قرار دینے کی تجویز بھی پیش کی، جسے مثبت انداز میں سراہا گیا۔
چیئرمین شوریٰ کونسل ڈاکٹر عبد اللہ بن محمد نے پاکستان کے ساتھ سعودی عرب کے دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو قابلِ فخر قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عوام ہمیشہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتے ہیں۔ انہوں نے اس دورے کو دونوں ممالک کے مابین تمام شعبہ جات میں تعاون کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔ڈاکٹر عبد اللہ نے مزید کہا کہ پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اور اشتراک عمل کو مزید مستحکم بنایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے لیے پاکستانی عوام اور پارلیمنٹ کی آواز کو خراج تحسین پیش کیا۔ملاقات میں عالم اسلام کے اتحاد، یکجہتی اور امن کے قیام کے لیے کی جانے والی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔
علاوہ ازیں، اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں پاکستانی وفد نے سعودی عرب کے گرینڈ مفتی، شیخ عبد العزیز بن عبد اللہ سے بھی ملاقات کی۔ اس موقع پر اسلامی تعلیمات کی اصل روح اور اسلام کے حقیقی تشخص کو اجاگر کرنے کی اہمیت پر زور دیا گیا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے مفتی اعظم کو دہشتگردی اور انتہا پسندی جیسے مسائل سے آگاہ کیا۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کو دہشتگردی کے سنگین چیلنج کا سامنا ہے اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز اور عوام نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے۔انہوں نے مفتی اعظم سے اس سلسلے میں کردار ادا کرنے کیلئے کہا۔اسپیکر قومی اسمبلی نے مفتی اعظم سے اسلامی تعلیمات کے مطابق دہشتگردی کے عزائم رکھنے والے عناصر کے خلاف فتویٰ جاری کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔دونوں ممالک نے اس دورہ کو دونوں ممالک کے درمیان برادرانہ تعلقات کو مزید مستحکم کرنے، عوامی و پارلیمانی سطح پر قریبی روابط کو فروغ دینے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔