Accessibility

Accessibility

Website Zoom

Color/Contrast

Download Reader

The Sitting of the National Assembly has been adjourned to meet again on Thursday, the 20th June, 2024, at 5:00 p.m.
Print Print

قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی 50 ویں میٹنگ پروفیسر ڈاکٹر قادر خان مندوخیل چیئرمین کمیٹی کی سربراہی میں آج(جمعرات) کو پاکستان انسٹیٹیوٹ برائے پارلیمانی سروسز ہال میں منعقد ہوئی.

Thursday, 25th May, 2023

 

اسلام آباد۔25 مئی()قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی برائے متاثرہ ملازمین کی 50 ویں میٹنگ پروفیسر ڈاکٹر قادر خان مندوخیل چیئرمین کمیٹی کی سربراہی میں آج(جمعرات) کو پاکستان انسٹیٹیوٹ برائے پارلیمانی سروسز ہال میں منعقد ہوئی.

وزارت داخلہ

کمیٹی نے افسران سے عملدرآمد دپورٹ طلب کی جس پر افسران نے بتایا کہ 5 کنٹریکٹ ملازمین کی مستقلی کیلئے کام جاری ہے،جلد حل ہو جائے گا،ڈی لیویز کی عدم حاضری پر کمیٹی کا اظہار برہمی اور تحریک استحقاق کی منظوری،آئی جی بلوچستان کو سمن جاری کرنے کا حکم،
کیپیٹل ڈویلپمنٹ اتھادٹی(سی ڈی اے)
افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ کمیٹی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے 430 وزیر اعظم پیکج والے ملازمین کو مستقل کرنےکیلئے کام شروع کیا ہوا ملازمین کا ریکارڈ مرتب کر رہے ہیں اور اسی ماہ تمام ریگولر کر دیئے جائیں گے،136 سی ڈی ہسپتال والے ملازمین کا کیس عدالت میں ہے اور ان 136 ملازمین کے خلاف ریگولر ملازمین کورٹ گئےہیں جس پر حکم امتناع ہے۔کمیٹی نے حکم دیا کہ 136 ملازمین کو ریگولر کیا جائے اورکمیٹی کی جانب سے واضح احکامات پر عملدرآمد نہ کرنے پر چیئرمین سی ڈی اے کو شوکاز نوٹس جاری کرتے جوئے آئندہ میٹنگ میں ذاتی حیثیت میں طلب کر لیا۔
غلام مصطفے ،راشد حسین اور فیصل زمان کو 10 دن کے اندر ریگولر کرنے کا حکم،
شمائلہ اور حنا یعقوب سمیت 10 ساتذہ نے کمیٹی کو بتایا کہ ابھی تک ہمارے مسائل حل نہیں ہوئے،
سی ڈی اے افسران نے بتایا کہ یہ ملازمین ایڈمنسٹریٹر کے ماتحت ہیں،کمیٹی نے حکم دیا کے تین دن کے اندر 10 اساتذہ کو ریگولر کیا جائے اور عدم حاضری پر ایڈمنسٹریٹر کو شوکاز نوٹس جاری،
سی ڈی افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ جہانگیر خٹک کے بارے عملدرآمد کرتے ہوئے اگلے ہفتے کو ڈی پی سی ہو دہی ہی اس میں ان کا مسئلہ حل ہو جائے گا۔ارشاد علی ملازم نے بتایا کہ ہم تین ملازمین کو نوکری سے نکال دیا گیا ہے کوئی نوٹس نہیں دیا گیا،افسران نے بتایا کہ ان ملازمین کے خلاف مکمل انکوائری ہوئی ہے،یہ اپنی ڈیوٹی والی جگہ سے غیر حاضر رہے اور اس وجہ سے وہاں چوری ہو گئی اور اسی وجہ سے ان کو نکالا گیا،چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ ایف آئی آر جب کٹتی ہے تو پولیس سب سے پہلے چوکیدار کو پکڑتی ہے،پولیس کی رپورٹ کہاں ہے جس کے مطابق چوکیدار چوری کے وقت غائب تھا، اور اگر چوکیدار ملوث تھا تو چالان کیوں نہیں کروایا گیا۔کمیٹی نے حکم دیا کہ آئندہ میٹنگ میں ارشاد علی وغیرہ کی مکمل رپورٹ کمیٹی کو پیش کی جائے

محکمہ اوقاف
قاری مطلوب الہٰی نے کمیٹی کو بتایا کہ کہ میں اب ریٹائرڈ ہونے والا ہوں مگر پروموشن نہیں دی گئی،ڈیلی ویجز 78 ہیں اور پروجیکٹ ملازمین 49 ہیں۔
کمیٹی نے ڈی جی اوقاف کو عملددآمد نہ کرنے اور عدم حاضری پر شوکاز نوٹس جاری اور مکمل رپورٹ طلب.

وزارت سرحدی امور
افسران نے کمیٹی کو بتایا کہ 752 ملازمین کی مستقلی کیلئے حکم تھا اور ساتھ وزارت خزانہ کو فنڈز اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو معاونت کا حکم تھا۔ہم نے پراسس کر رکھا ہے۔کمیٹی نے کہا کہ جو کام آپ نے کیا ہے اس کا کوئی تحریری ثبوت دیں۔افسران کے پاس کوئی تحریری ثبوت نہیں تھا۔کمیٹی نے حکم دیا کہ تین دن کے اندر اندر وزارت خزانہ سے فنڈز اور پوسٹوں کیلئے رابطے کا حکم،
فیاض الدین اور اشرف اللہ وغیرہ 10 لیکچرار کو ریگولر کرنے کا حکم،سید احمد شاہ وغیرہ 19 اساتذہ کو بھی ریگولر کرنے کا حکم۔

اسٹبلشمنٹ ڈویژن
افسران نے کمیٹی کو رپورٹ دیتے ہؤئے بتایا کہ کمیٹی کے حکم پر 27 ڈیلی ویجز ملاذمین کی۔مستقلی کیلئے اشتہار دے دیا ہے اور ان ملازمین کو ترجیہی بنیآدوں پر ایڈجسٹ کریں گے،48 سیکڈ ملازمین کو ریگولر کرنے کیلئے کابینہ کارڈ ڈویژن سے  ریکارڈ مانگا ہوا ہے جواب آتے ہی عملدرآمد ہو جائے گا،164 اپن ایچ اے کے کنٹریکٹ ملازمین کے بارے این ایچ اے کو کاپی فراہم کر دی ہے،
اختر حسین ملازم نے کمیٹی کو بتایا کہ میں نے 34 سال نوکری کی ہے اور اب ریٹائرڈ ہو گیا ہوں اور کوئی بینفٹ نہیں دیا گیا۔افسران نے کمیٹی کو بتایا کے یہ ٹوٹل 427 سیکڈ ملازمین ہیں جو مختلف اداروں میں ہیں،کابینہ ڈویژن سے ریکارڈ لے کر مرتب کر رہے ہیں،ریکارڈ کی تکمیل ہوتے ہی بہت جلد ان ملازمین کے مسائل حل ہو جائیں گے۔

نیشنل سکول آف پبلک پالیسی
افسران نے کمیٹی کو عملدرآمد رپورٹ دیتے ہوئے بتایا کہ کمیٹی کے احکامات پر عملدرآمد کرتے ہوئے 21 پی ایم پیکج والے ملازمین کؤ ریگولر کر دیا ہے،136 کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کر دیا ہے اور 213 ڈیلی ویجز کو ریگولر کرنے کیلئے اشتہار دے دیا ہے اور جلد ریگولر کر کے رپؤرٹ دے دی جائے گی۔کمیٹی نے حکم دیا کہ 213 ملازمین کو بھی ریگولر کر کے رپورٹ جمع کروائی جائے.

سول سروسز اکیڈمی
افسران نے رپورٹ دی کہ 35 کنٹریکٹ  ملاذمین کو ریگولر کرنے کیلئے اشتہار دے دیا ہے،جلد ریگولر ہو جائیں گے۔
بینوولینٹ فنڈ کے 29 کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کرنے کیلئے اشتہار جاری ہو چکا ہے اور جلد ریگولر کر دیئے جائیں گے۔سٹاف ویلفیئر آرگنائزیشن نے رپورٹ دی کہ 2 سیکڈ ملازمین تھے جن کو مکمل مراعات کیساتھ بحال کر دیا گیا ہے۔کمیٹی نے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن اور اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے تمام ذیلی اداروں کے افسران کو کمیٹی کے احکامات پر عملدرآمد کرنے پر تعریف کی ۔

ورکرز ویلفیئر بورڈ پختونخواہ
کمیٹی نے سیکرٹری اوورسیز کو عدم حاضری پر شوکاز جاری کرتے ہوئے احکامات دیئے کہ 700 برطرف ملازمین کو بحال کیا جائے،2916 کنٹریکٹ ملازمین کو ریگولر کیا جائے،10 فیصد میڈیکل ملاذمین کی تنخواہ میں لگایا جائے،13 ملازمین کا مسئلہ فوری حل کیا جائے اور سروسز رولز اور سٹریکچر فوری طور پر بنائے جائیں۔

وزارت ہاؤسنگ اتھارٹی
عدم حاضری پر سیکرٹری ہاؤسنگ کو شوکاز نوٹس جاری

پیمرا
چیئرمین پیمرا نے کمیٹی کو بتایا کہ نوٹس نہ ملنے کی وجہ سے گزشتہ کل کی میٹنگ میں شریک نہیں ہو سکا۔کمیٹی کے احکامات پر عملدرآمد رپورٹ دیتے ہیں چیئرمین پیمرا نے بتایا کہ 76 پی ایم پیکج والے ملازمین کو ریگولر کر دیا ہے،76 کنٹریکٹ ملاذمین کی مستقلی کیلئے بورڈ آف ڈائریکٹر سے منظوری لے کر ریگولر کر دیں گے۔کمیٹی نے برطرف ڈی جی حاجی آدم کی بحالی بارے عملدرآمد رپورٹ طلب کی۔افسران کمیٹی کو مطمئن نہ کر سکے جس پر کمیٹی نے اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ آخری موقع دے رہے ہیں کہ کمیٹی کے احکامات پر عملدرآمد کیا جائے بصورت دیگر قانونی کارروائی کی جائے گی۔

میٹنگ میں قومی اسمبلی ایم این اے عالیہ کامران،ایم این اے آسیہ عظیم،ایم ایم اے نوید امیر جیوا اور ایم این اے کشور ذہرہ نے شرکت کی