Last Updated On: 27th September 2020, 07:03 PM
Home | Advertisments | Careers | Downloads | Useful Links | FAQs | Contact Us 
The National Assembly Session has been prorogued on Thursday, the 17th September, 2020 |

Press Release Details

Share Print
It is mandatory to maintain Peace for Progress in the Region
Tuesday, 10th December, 2019


اسلام آباد؛ 10دسمبر 2019: ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم خان سوری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر ایک دیرینہ تصفیہ طلب مسئلہ ہےاور خطے کے پائیدار امن کے لیے اس مسئلہ کا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق جلد حل نا گزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت ناصرف گزشتہ 72سالوں سے کشمیری عوام کو اُن کا حق خودارادیت  جو اُن کا بنیادی حق ہے دینے سے انکاری ہے بلکہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں  بھی روزہ مرہ کا معمول ہے۔ انہوں نے کہا کہ 5اگست سے بھارتی حکومت نے مقبوضہ وادی میں کرفیو نافذ کر کے 80لاکھ لوگوں کو اُن کے گھروں میں قید کر رکھا ہے ۔ انہوں عالمی برادری اور امن کے لیے کام کرنے والے اداروں پر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کو بند کرانے اور اس دیرینہ مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرانے کے لیے کردار ادا کرنے  کی ضرورت پر زور دیا۔ ان خیالات کا اظہار اُنہوں نے یونیورسل پیس فیڈریشن (یوپی ایف) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جس نے منگل کے روز پارلیمنٹ ہاؤس میں اُن سے ملاقات کی ۔ ملاقات میں سابق ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم کنڈی بھی موجود تھے۔


ڈپٹی اسپیکر نے کہا کہ بھارت نے کشمیر کی لیڈر شپ کو جیلوں میں قید کر رکھا ہے اور اپوزیشن لیڈر تک کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انٹر نیٹ سمیت تمام ذرائع ابلاغ پر پابندی لگا کر کشمیری عوام کی زبان بندی کر رکھی ہے یہاں تک کہ مقبوضہ وادی میں بیماروں کو ہسپتال تک جانے کی اجازت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سب ممالک اس بات پر متفق ہیں کہ کشمیر میں حالات انتہائی سنگین ہیں تاہم ضرورت اس بات کی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و بربریت کو روکنے کے لیے ہر سطح پر آواز اُٹھائی جائے اور بھارتی اقدامات کی بھرپور مذمت کی جائے۔


افغانستان میں امن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان  افغانستان میں امن کے لیے ہونے والے مذکرات کی بھرپور حمایت کرتا ہے  اور اس سلسلے میں جو بھی تعاون ممکن ہوا فراہم کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پر امن اور خوشحال افغانستان دیکھنے کا خواہاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں غربت کے خاتمے کے لیے خطے میں پائیدار امن کا قیام ضروری ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کا امن ایک دوسرے کے ساتھ جوڑا ہوا ہے اگر افغانستان میں امن ہو گا تو پاکستان میں بھی امن ہو گا۔ انہوں نے یونیورسل پیس فیڈریشن کی دنیا میں امن کے لیے کاوشوں کو سراہا  اور انہیں پاکستان میں کام کرنے کی دعوت دی۔

 Mr. Umberto A. Angelucci  ریجنل چئیر ، یونیورسل  پیس فیڈریشن (یو پی ایف)  نے اپنی تنظیم کے اغراض و مقاصد بتاتے ہوئے کہا کہ  یو پی ایف کی بنیاد 2005 میں رکھی گئی اور اس کابنیادی مقصد دنیا میں ہم آہنگی ، تعاون اور امن کا فروغ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دوسروں کی خاطر زندہ رہنا یو پی ایف کا بنیادی اصول ہے ۔انہوں نے کہا کہ یوپی ایف اقوام متحدہ کی معاشی اور سماجی کونسل کے ساتھ عمومی مشاورتی حیثیت کا حامل ادار ہ ہے اور اقوام متحدہ کے کام کی حمایت اور ترویج کرتاہے  اور پائیدار ترقی کے ہداف کے حصول میں معاونت کرتا ہے ۔ انہوں نے ڈپٹی سپیکر کا شکریہ ادا کیا اور کشمیر کے مسئلہ کے حل کے لیے اپنے ادارے کے تعاون کا یقین دلایا۔